
نومبرکس طرح بیتا بتا دوں تو قیامت ہو
ghazal classical,romantic,pop

نومبرکس طرح بیتا بتا دوں تو قیامت ہو
ghazal classical,romantic,pop
Lyrics
سسکتے راز سے پردہ ہٹا دوں تو قیامت ہو
نومبرکس طرح بیتا بتا دوں تو قیامت ہو
سسکتے راز سے پردہ ہٹا دوں تو قیامت ہو
نومبرکس طرح بیتا بتا دوں تو قیامت ہو
ابھی تم جن کو پڑھ پڑھ کر الجھتی ہو مقدر سے
وہ تارے تیری پلکوں پر سجا دوں تو قیامت ہو
کئ صدیوں سے پھرتی ہے جو ان آنکھوں میں ویرانی
اسے چبھتے حقائق سے ملا دوں تو قیامت ہو
سسکتے راز سے پردہ ہٹا دوں تو قیامت ہو
نومبرکس طرح بیتا بتا دوں تو قیامت ہو
کسی کی آرزو کیا کی زمانہ زہر لے آیا
اسے گر آرزو کے گر بتا دوں تو قیامت ہو
مجھے یہ پوچھتے ہو روز جو۔ اس بات کی بابت
میں اب اثبات میں سر کو ہلا دوں تو قیامت ہو
سسکتے راز سے پردہ ہٹا دوں تو قیامت ہو
نومبرکس طرح بیتا بتا دوں تو قیامت ہو
اسی تحفے سے قائم ہے جہاں کا کار خانہ بھی
تمہاری آس کو دل سے مٹا دوں تو قیامت ہو
جو میں نے وقت کے ہاتھوں سے پی ہے تیری فرقت میں
تجھے اک گھونٹ ہی گر میں پلا دوں تو قیامت ہو
سسکتے راز سے پردہ ہٹا دوں تو قیامت ہو
نومبرکس طرح بیتا بتا دوں تو قیامت ہو
تمہاری نرم بانہوں میں اساس زندگی رکھ کر
وہ ساری تلخیاں اک دم بھلا دوں تو قیامت ہو
جنہیں جذبات کے گھیرے میں کب سے روک رکھا ہے
وہ آنسو آج آنکھوں سے گرا دوں تو قیامت ہو
سسکتے راز سے پردہ ہٹا دوں تو قیامت ہو
نومبرکس طرح بیتا بتا دوں تو قیامت ہو
دل بیتاب میں گردش لہو کی اسکے ہونے سے
محبت کو اگر کچھ دن سلا دوں تو قیامت ہو
ابھی الفاظ کی ہیئت سے وحشت ہونے لگتی ہے
اگر ان کے مطالب بھی بتا دوں تو قیامت ہو
سسکتے راز سے پردہ ہٹا دوں تو قیامت ہو
نومبرکس طرح بیتا بتا دوں تو قیامت ہو
غنیمت جان کہ مجھ سے ہے قائم خواب سا عالم
اگر منظر سے میں خود کو ہٹا دوں تو قیامت ہو
جہاں واعظ جبین فخر کو ہر دم پٹختا ہے
وہاں میں دو گھڑی ماتھا لگا دوں تو قیامت ہو
سسکتے راز سے پردہ ہٹا دوں تو قیامت ہو
نومبرکس طرح بیتا بتا دوں تو قیامت ہو
