Bhai - بھائی - भाई

Lyrics
خوش نصیب ہیں وہ جن کے بھائی ہوتے ہیں
ڈھونڈنے سے نہیں ملتے، بھائی انمول ہوتے ہیں
بچپن کی گلیاں، ایک ہی سا خواب
ہنسی کے سائے، آنسو بے حساب
وقت بدل جائے، راستے جدا ہوں
دل کے یہ رشتے کبھی نہ جدا ہوں
بھائی… لفظ نہیں، ایک دعا ہوتا ہے
خاموشی میں بھی جو ساتھ نبھاتا ہے
بھائی… خون سے بڑھ - کر رشتہ ہے
جو ٹوٹ کے بھی کبھی نہ ٹوٹ پاتا ہے
ہم نوالہ، ہم پیالہ، ہم رازدار
ہر اندھیرے میں بنتا ہے وہ دیوار
محبت سے سرشار، بے لوث سا رشتہ
قسمت والوں کو ملتا ہے یہ انمول حصہ
کہنے کو کچھ ہو تو لفظ نہیں
سمجھ جائے دل، بس یہی کافی
بھائی… لفظ نہیں، ایک دعا ہوتا ہے
خاموشی میں بھی جو ساتھ نبھاتا ہے
بھائی… انمول سا رشتہ ہے
جو ہر طوفان میں بھی کھڑا رہتا ہے
دلوں کے رشتوں کو زبان کا سہارا نہیں
َان کہی باتوں کو جو سمجھے، وہی بھائی سہی
دنیا بدلے، لوگ بدل جائیں
بھائی کے سائے کبھی کم نہ ہوں
بھائی… رب کی ایک عنایت ہے
ہر درد میں بس وہی راحت ہے
وسیم، تیری دوستی لا زوال ہے
ندیم خوش بخت ہے، یہ رشتہ کمال ہے
صاحبِ اقبال ہیں وہ، سلیم
جن کے بھائی ہوتے ہیں…
بھائی… لفظ نہیں، ایک دعا ہوتا ہے
خاموشی میں بھی جو ساتھ نبھاتا ہے
بھائی… خون سے بڑھ- کر رشتہ ہے
جو ٹوٹ کے بھی کبھی نہ ٹوٹ پاتا ہے
